IQNA

8:20 - November 21, 2021
خبر کا کوڈ: 3510691
تہران(ایکنا) نامور مصری قاری شیخ ابوالوفاء السعیدی گذشتہ سال انیس نومبر کو ۶۴ سال کی عمر میں دار فانی سے رخصت ہوئے۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق مصری قاری شیخ محمود ابوالوفاء السعیدی  سال ۱۹۵۴ کو مصری صوبہ اسوان کے گاوں کلح الجبل میں پیدا ہوئے اور ہر دوسری دیہاتی ماں کی طرح انکی ماں کی خواہش تھی وہ حافظ قرآن بنے لہذا انکو مدرسہ لیجایا گیا جہاں چار سال کی عمر میں انہوں نے حفظ پر کام شروع کیا اور پھر وہ شیخ محمد ابوالعلا و شیخ کمال کے پاس حفظ کرنے گیے۔

 

شیخ محمود ابوالوفاء السعیدی نے سال ۱۹۷۲ اکنامکس میں ڈپلومہ لیا اور پھر قرآت پر عبور کی سند حاصل کی اور سال ۱۹۸۳ کو انکی پہلی کیسٹ ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے سورہ نمل اور سورہ مریم کی تلاوت کی تھی اور یہی کیسٹ انکی شہرت کی وجہ بنی۔

شیخ محمود ابوالوفاء السعیدی تلاوت کی دنیا میں شہرت کی وجہ سے دیگر شعبوں سے الگ ہوا اور تلاوت کی طرف پوری توجہ مبذول کی اور سال ۱۳۷۱ ہجری شمسی میں ریڈیو سے وابستہ ہوا اور سال ۱۳۷۴ میں

 مسجد سیده زینب(س) سے انکی برراہ راست تلاوت نشر ہوئی۔

 

شیخ محمود ابوالوفا السعیدی نے پہلا غیر ملکی سفر ہالینڈ کا کیا اور اس کے بعد دیگر درجنوں ممالک میں تلاوت قرآن کے فن سے لوگوں کو مستفید کیا انکے بیٹے ڈاکٹر احمد ابوالوفاء السعیدی نے بھی انکی تقلید میں میڈیسن شعبے سے وابستگی کے باوجود تلاوت کا فن سیکھا۔

 

۱۹ نوامبر ۲۰۱۸، کو مصری قاری شیخ محمود ابوالوفاء السعیدی اپنے آبائی علاقے اسوان میں نماز فجر کے بعد ناگہانی طور پر دنیا کو وداع کرگیے۔/

4014782

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: