IQNA

7:12 - March 22, 2022
خبر کا کوڈ: 3511545
اقوام متحدہ کا ادارہ بھی رنگ و نسل و مذہب دیکھ کر حکم جاری کررہا ہے جو اس عالمی ادارے کے لیے باعث شرم ہے۔

"کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جلد کا رنگ سیاہ ہے یا ہم عربی بولتے ہیں یا ہم حجاب پہنتے ہیں؟" ایک آزاد فلسطینی خاتون عائشہ الکرد نے اپنی گفتگو کا آغاز یوں کیا۔ وہ بین الاقوامی برادری میں انسانیت کے تصور کے دوغلے پن اور ایک طرف سے یوکرین کے بحران اور دوسری طرف مسئلہ فلسطین کی نسبت ان کے متضاد رویہ پر برہم ہیں۔
 
 یوکرین کے بحران پر عالمی برادری کے فوری اور فیصلہ کن ردعمل نے فلسطینی عوام کو شدید غم و غصہ میں مبتلا کر دیا ہے ، اس لیے نہیں کہ وہ یوکرائنی عوام سے نفرت کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ بین الاقوامی انصاف سے نفرت کرتے ہیں، کیونکہ جب فلسطینیوں کی بات آتی ہے تو وہ انصاف پلٹا کھا جاتا ہے۔
 
یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے ابتدائی پانچ دنوں میں ہی کئی ممالک نے روس اور اس کے حکام پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، لیکن کیا فلسطینی عوام پر 75 سال سے ڈھائے جانے والے مصائب و آلام اس قدر نہیں تھے کہ ایک بار بھی صہیونی حکومت پر پابندیاں عائد کی جائیں؟ درحقیقت یہ کہنا ضروری ہے کہ مغرب جو یوکرین کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے وہی مغرب ہے جو فلسطینیوں کے خلاف مزید جرائم کرنے کے لیے صیہونی غاصب حکومت کی حمایت کرتا ہے۔
 
یوکرین سے لے کر فلسطین تک وہ راستہ جس میں عالمی اخلاقیات بھٹک گئیں
 
یوکرین کے بحران نے عالمی برادری کے اصل چہرے سے نقاب ہٹا دیا ہے جو ایک طرف نسل پرستی کی مذمت کرتی ہے اور دوسری طرف فلسطینیوں کے خلاف دہائیوں سے نسلی امتیاز پر قائم صہیونی نظام کی حمایت کرتی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن بھول گئے ہیں – یا خود کو بھولے میں ڈال دیا ہے- جب انہوں نے ولادیمیر پوٹن کو جنگی مجرم کہا تھا لیکن فلسطینی گھرانے برسوں سے قتل و غارت، تباہی، نقل مکانی، غاصبانہ قبضے، ان کے مقدسات کو یہودیانے اور اپنے نوجوانوں کو پھانسی کی سزا بھگتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ سب چیزیں بائیڈن کے لیے صیہونی حکومت کے رہنماؤں کو جنگی مجرم قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہیں!۔
 
اقوام متحدہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ غزہ پر قابض حکومت کی مسلسل فوجی کاروائیوں کے تناظر میں سلامتی کونسل تین قراردادوں کے باوجود تل ابیب کو جارحیت روکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہی۔ علاوہ ازیں اس حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے واحد اجلاس کے دوران کسی بھی مقرر نے غزہ میں بچوں کی ہلاکت کو دہشت گردی قرار نہیں دیا اور اس کی مذمت نہیں کی۔ جبکہ جنرل اسمبلی کے اسی طرح کے اجلاس میں موجود افراد نے یوکرین سے اظھار ہمدردی کے لیے روس پر پابندیاں عائد کیں۔
 
یہاں تک کہ انہوں نے یوکرین کی ایک مسجد پر بمباری کو مزید ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جب کہ غزہ کی پٹی میں 400 مساجد کو اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا اور نمازیوں کو قتل کر دیا۔
 
لہٰذا آج کے بعد دنیا میں نہ انصاف نام کی کوئی چیز ہے اور نہ عالمی برادری پر کوئی اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ آج حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے اور طاقت ظالموں کے ہاتھ میں ہے، غلامی کی تاریخ ایک مختلف روپ میں دہرائی جا رہی ہے اور نسل، رنگ اور مذہب آج بھی اقوام متحدہ کی نشستوں پر بیٹھے بظاہر انسانی حقوق کے دفاع کا ڈھونگ رچانے والوں کے ذہنوں پر بھوت کی طرح سوار ہے اور ان کی آنکھوں پر تعصب کی عینکیں ہیں۔
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: