IQNA

فلم | شیخ شلتوت اور وحدت کی کاوش

5:59 - October 30, 2021
خبر کا کوڈ: 3510532
تہران(ایکنا) الازھر کے شیخ محمود شلتوت نے وحدت مسلمین کے حوالے سے انقلابی کاوش کی اور فتوی دیا تھا کہ شیعه مسلک بھی دیگر اہل سنت مکاتیب کی طرح قابل احترام ہے۔

ایکنا نیوز کے مطابق مصری عالم «شیخ محمود شلتوت»، ۱۲۷۲ ہجری شمسی کو مصر کے صوبہ«بحیره» میں پیدا ہوئے اور انکے والد «شیخ محمد شلتوت» بہت جلد دنیا سے رخصت ہوئے لہذا آپ نے اپنے چچا شیخ عبدالقوی شلتوت کی سپرستی میں پروش پائی اور پھر جلد وہ حافظ قران بنے۔

شیخ محمود شلتوت جب سترہ سال کے تھے انہوں نے اسکندریہ یونیورسٹی کا رخ کیا اور ۲۵ سال کی عمر میں یونیورسٹی سے فارغ التحصل ہوئے۔

مصر میں انقلاب کے ساتھ وہ «سعد زغلول» کی سربراہی میں انقلابیوں سے جا ملے۔

شیخ شلتوت نے تفسیر قران، فقہ اور دیگر علوم میں کافی کتابیں لکھی اور انکی تفسیرکو کافی شہرت ملی۔

شیخ محمود شلتوت نے «الازهر» کی صدارت سے قبل اور بعد میں مسلمانوں میں اتحاد کی کافی کوشش کی اور اس حوالے سے انقلابی اقدامات کیے جس میں شیعوں کے حوالے سے انکا فتوی شامل ہے کہ شیعہ مکتب دیگر مسالک کی طرح ہی قابل احترام و قابل توجہ ہے۔

 

ویڈیو کا کوڈ

انہوں نے اعلان کیا: جعفری مذهب کی پیروی اہل سنت کے لیے بالکل جایز ہے اور اس حوالے سے بیجا تعصب جایز نہیں۔

شیخ محمود شلتوت نے الازھر یونیورسٹی میں «فقه مقارن» یا عصر حاضر کی شریعت کے عنوان سے شعبہ قایم کیا، انکا خیال تھا کہ مسلم مفتی اور مراجع کو تعصبات اور خواہشات سے پاک ہونا چاہیے ۔


سیاسی میدان میں شیخ محمود شلتوت سرگرم رہے اور جب ایران کے شاہ نے صیھونی رژیم کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو شیخ محمود شلتوت نے آیت اللہ بروجردی کو خط لکھ کر اس حوالے سے اعتراض کیا تھا۔


شیخ شلتوت نے ۱۳۴۲ ہجری شمسی کو ایران میں امام خمینی کی گرفتاری اور ایرانی مظاہرین عوام پر تشدد پر اعتراض کیا اور اسلامی علما سے ایرانی مجاہدین کی حمایت کی درخواست کی۔

اسلامی وحدت کے علمبردار مرحوم شیخ محمود شلتوت ستّر سال کی عمر میں ۱۳۴۲ ہجری شمسی کو قاہرہ میں انتقال کرگیے۔/

4008504

نام:
ایمیل:
* رایے:
* :