IQNA

7:27 - March 18, 2022
خبر کا کوڈ: 3511523
ماہ شعبان کے وسط میں ایک ایسی ہستی کی ولادت کا دن ہے جن کے ہاتھوں عالمی عدل و انصاف کے قیام کی خوشخبری دی گیی ہے۔

نیمه ماه شعبان میں ایسی ہستی کی آمد کی نوید روایتوں میں دی گیی ہے جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گی اور ماہرین کے مطابق ایسی ہستی پر امید دنیا کے مستقل پر مسلمانوں کے لیے ایک دل خوش کن اور امید بھری زندگی پوشیدہ ہے۔

 

امام مہدی کی حکومت کے اہداف

 

انسان کی پیدائش کا آخری مقصد خداوندمتعال کے نزدیک ہونا ہے لہذا اس مقصد تک پہنچنے کے لیے وسایل کا فراہم کرنا اوررکاوٹوں کا دورکرنا ضروری ہے اوروہ صرف امام زمان عج کی حکومت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ تعالی تک پہنچ سکتےہیں انسان دوچیزوں (جسم وروح)سے مرکب ہے اس بناپر ضروری ہے کہ کمالات تک پہنچنے کے لیے دونوں طرف سے حرکت کرے اورعدالت جو کہ الہی حکومت کے ذریعے ممکن ہے انسان کی مادی اورمعنوی سیر کی ضامن ہے

اس بنا پر امام زمانہ عج کی حکومت کے اہداف بھی دومحور کی بنیاد پر بیان کیے جاسکتےہیں

 

معنوی ترقی :

 

انسان اپنی زندگی میں ہمیشہ معنوی اورروحانی راستے سے ہٹ کرحرکت کررہا ہے اورنفسانی خواہشات اور وسوسہ ھای شیطانی میں گھرچکا ہے اوراپنی زندگی کی اچھائیوں کو بھول بیٹھا ہے اوراپنے ہاتھ سے شہوت کے قبرستان میں دفن ہورہا ہے پاکی وطہارت، صداقت وسچائی ، باہمی تعاون ،ایثار اورفداکاری ،احسان اورنیکی کی جگہ ،شہوت رانی ،جھوٹ ،فریب ،۔خیانت ،ظلم ،مال ودولت کی ھوس میں زندگی گزاررہا ہے اورجس کے نتیجے میں معنویت اورروحانت رخت سفر باندھ کر دورہورہی ہے امام زمانہ کی حکومت انسان کے اندرمعنویت اورروحانیت کو زندہ کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہی اٹھائے گی تاکہ انسان جو سجود ملائکہ ہے اپنی حقیقی زندگی کا ذائقہ چکھ لے جس طرح قرآن مجید میں ہے یاایھاالذین امنوا استجیبواللہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم اے ایمان والو اللہ ورسول کی آوازپرلبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے شیعوں کے دوسرے پیشوا فرماتے ہیں خداوندعالم آخری زمانے میں ایک شخص کو مبعوث کرے گا کہ کوئی فاسد ومنحرف نہیں رہ جائے گا مگریہ کہ اس کی اصلاح ہوجائے گی حرص وطمع لوگوں کے درمیان سے ختم ہوجائے گا اوربےنیازی پیدا ہوجائے گی ۔

 

عدالت کا قیام

 

طول تاریخ بشری میں ظلم وستم کا دورچلاآرہاہے اوربشر اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں ہمیشہ محروم رہا ہے اورکبھی بھی بنی آدم کے درمیان عادلانہ تقسیم نہیں ہوئی کچھ لوگ بھوک سے مررہے ہیں اورکچھ لوگ مرغن غذاوں سے اپنے پیٹ بھر رہے ہیں کچھ لوگ بڑے محل اورعمارتوں میں زندگی گزاررہے ہیں اورکچھ لوگ ویرانوں میں زندگیاں گزارنے پر مجبورنظرآتےہیں ظالمین اورمستکبرین نے ضعیف اورناتوان لوگوں کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے یعنی ہمیشہ غریبوں اورفقیروں کے حقوق پایمال ہورہے ہیں لذا انسان اپنی خواہشات کو حاصل کرنے کےلیے عدالت کا منتظر ہے

اس انتظار کی انتہا امام مہدی عج کی حکومت ہے کہ جس کا بہت سی روایات میں تذکرہ کیاگیاہے

امام حسین علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ میں نے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو خداوندمتعال اس دن کو اتنا طولانی کرے گا یہاں تک کہ میری عترت سے قیام کرے گا اورزمین کو عدل سے پرکردے گا

زمین کا زندہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدالت مہدوی اسی عدالت ہوگی جو پورے عالم کو گھیر لے گی اورتمام لوگ امام کی عدالت سے بہرہ مند ہوں گے

۔

اس عالمی تحریک کا پرچم کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا کہ مہدی(عج) میری امت سے ہیں ۔۔۔۔۔ میری امت ان کے وقت میں(چاہے نیک ہو یا بد) ایسی خوشحالی میں ہوگی کہ اس سے پہلے ایسی خوشحالی انہیں کبھی نصیب نہ ہوئی ہوگی ! آسمان سے خوب بارشیں ہونگی اور زمین سے بہت سی چیزیں پیدا ہونگی ،اس وقت میں مال و دولت فصلوں کے بکھرے ہوئے ڈھیر کی طرح ہوگی۔ جب کوئی انسان ان کے پاس مدد مانگنے کے لئے آئے گا تو وہ جتنا اٹھا سکے گا اس کو دے دیا جائے گا۔

 

امید بخش مستقبل

آپ کی حکومت محرومین ، مستضعفین ، مؤمنین کی مدد ومعاونت کرے گی اور اللہ تعالی کے نیک اور صالح بندے بڑے بڑے مقامات اور عہدوں پر منصوب ہوں گے ۔ اس کے علاوہ عقیدتی ، سیاسی ، حکومتی ، اور ثقافتی امور کو قرآن و سنت کے مطابق مرتب کیا جائے گا اور تمام اجتماعی اور معاشرتی امور اسی اسلامی ثقافت پر استوار ہونگے ۔

 

ظلم اور ظالموں سے مقابلہ کرکے ان کا قلع و قمع کرنا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینا بھی آپ کی حکومت کی ایک اہم خصوصیات میں سے ہے ۔

 

اسی طرح معاشرہ میں موجود انحرافات اور برائیوں سے مقابلہ بھی آپ کی سیاست کی بنیادی اصولوں میں سے ہےاقتصادی میدان میں ترقی اور عمران و آبادانی بھی آپ کی حکومت کی بنیادی منصوبوں اور پالسیوں میں سے ایک ہے۔

واضح ہےکہ حضرت مہدی(عج) کاعدل و انصاف خود ان کی حکومت کی تقویت اور وسعت کا باعث بنے گا ۔ عدل و انصاف اور امن و سلامتی کا قیام  ، زمین کے باشندوں کی دیرینہ آرزو اور انبیاء کرام کی دعوت کا سرچشمہ رہی ہے اور آخر کار امام عصر (ع) اس آرزو کو باذن خداعملی شکل دیں گے اور انسانوں میں سے ہر کوئی کسی تفریق یا امتیاز کے بغیر امام زمانہ کے عدل و انصاف اور امن کی چاشنی سے محظوظ ہوکا ۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: