سورہ احزاب اور مرد و خواتین پر یکساں نظر

IQNA

قرآنی سورے/ 33

سورہ احزاب اور مرد و خواتین پر یکساں نظر

7:20 - October 04, 2022
خبر کا کوڈ: 3512825
مرد و خواتین کے جسم میں گرچہ فرق ہے تاہم دونوں کی روح ایک جیسی ہے اور اس میں مونث مذکر کا کوئی فرق نہیں۔

ایکنا نیوز- قرآن مجید کے تینتیسویں سورے کا نام احزاب ہے اور اس مدنی سورے میں تہتر آیات ہیں جو قرآم مجید کے اکسویں بائیسویں پارے میں ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کے نوے نمبر پر قلب رسول گرامی اسلام پر نازل ہوا ہے۔

سوره احزاب نام رکھنے کی وجہ اس سورہ میں کلمہ احزاب کا استعمال ہے جس کا مقصود کفار کے وہ گروہ ہیں جو مختلف قبائل کی صورت میں اسلام اور  رسول گرامی کے خلاف متحد ہوئے تھے اور جنگ احزاب شروع کی تھیں۔

 

اس سورہ میں ان حوادث کا ذکر ہیں جو ہجرت کے دوسرے اور پانچویں سال پیش آئے جسوقت تازہ اسلامی حکومت قایم ہویئ تھی اور مشرکین و منافقین اس تازہ اور کمزور حکومت کو ختم کرنے کے درپے تھے اس عرصے میں رسول گرامی اسلام ایک جانب جاہلیت کے قوانین سے جنگ میں مصروف تھے اور دوسری جانب ان سازشوں کا سامنا کرنے پر مجبور تھے۔

اس سورہ میں رسول گرامی اور انکے کردار اور رویے پر نکات موجود ہیں اور رسول گرامی کی بیویوں کے بارے میں ہدایات ہیں اور ان سے توقع کی بات کی جاتی ہے کہ وہ ترک دنیا اور دوسروں سے کارخیر میں پیش قدم ہو اور گناہوں سے دوری میں سرفہرست۔

دیگر نکات میں مرد و زن کی برابری اور کسب فیض میں کوشش کی بات کی گیی ہے، سورہ کی آیت 35 میں کہا گیا ہے: «إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا:

 

یقینا خدا نے مسلمان اور با ایمان مرد و زن، عبادت کرنے والی خواتین، سچے مرد و خواتین، صدقہ دینے والے مرد و زن، روز رکھنے والے، خود کو برائیوں سے دور رکھنے والے، خدا کو بہت یاد کرنے والے اور خدا کو بہت یاد کرنے والے جنکو اجر عظیم دیا جائے گا۔».

اس آیت میں مرد و خواتین کے لیے  10 کمال کو گنا گیا ہے جنمیں عقیدے کی درستگی، درست عمل، اخلاق جنمیں سے بعض واجب اور بعض مستحب ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ فضائل کے حصول میں مرد و زن میں کوئی فرق نہیں اور اسلام نکتہ نگاہ سے دونوں برابر ہیں۔/

متعلق خبر
نام:
ایمیل:
* رایے:
captcha