تجارت اور سود کا فرق قرآن کی نظر میں

IQNA

قرآن کہتا ہے / 39

تجارت اور سود کا فرق قرآن کی نظر میں

7:10 - December 05, 2022
خبر کا کوڈ: 3513286
سود کا سسٹم کچھ یوں ہے کہ عام طور ہر اس میں کمزوروں کا سرمایہ نابود ہوجاتا ہے۔

ایکنا نیوز- تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سود کا آغاز کرنسی کی ایجاد کے ساتھ شروع ہوا اور اس کا معنی یہ ہے کہ ایک قرض دیا جائے اور واپسی پر اصل پیسے سے زیادہ رقم لی جائے۔

 

مسلمان علما نے آیات و روایات کی روشنی میں سود کو حرام قرار دیا ہے اور اسلامی احکام میں تاکید کی گیی ہے کہ سود کا جڑ ظلم سے مقابلے میں حائل ہے اور قرض حسنہ کے برعکس ہے اگر چہ اس کو مختلف ناموں نارملایز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 

قرآن میں ہم پڑھتے ہیں: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ؛

جو لوگ سود کھاتے ہیں (قیامت میں) نہیں اٹھیں گے مگر اس حالت میں کہ شیطان کا اس میں حلول ہو، دیوانے کی طرح (گرتے پڑتے) اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا: لین دین سود کی طرح ہے اور اس میں فرق نہیں، حالانکہ خدا نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے(یعنی اس میں بڑا فرق ہے)

اور جو خدا کے خبردار سے ڈرے اور (سود) سے خود کو محفوظ رکھے، سود جو  ( حکم الھی سے قبل) سے اسکا مال ہے اور، (و یہ حکم گذشتہ پر لاگو نہیں ہوتا) اور اسکا کا خدا کے ذمے ہوتا ہے، (وہ اس کی مآضی کو بخش دے گا). لیکن جنہوں نے روگردانی کی (اور پھر گناہ کریں)، آگ میں جلنے والے ہیں؛ اور ہمیشہ اس میں رہیں گے(بقره، 275).

 تفسير الميزان میں سوال کیا گیا ہے کہ سود کو اس قدر کیوں سختی سے منع کیا گیا ہے اور خدا نے انکو وارننگ دی ہے؟!

علامه طباطبايی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں لکھتا ہے کہ سود کا سسٹم کچھ ایسا ہے کہ کمزؤروں کا سرمایہ نابود ہوجاتا ہے لہذا آیات قرآن کے رو سے لین دین درست کام ہے اور اس کے مقابل سود ایسا تخریبی عمل ہے جو اخلاقی، اقتصآدی حوالے سے ترقی کی راہ میں حائل ہے اور اس کو حرام قرار دیا گیا ہے یعنی یہ خدا سے جنگ کے مترادف ہے۔

سود کے برے آثار میں طبقاتی فاصلہ ہے اور اس سے کام اور کوشش کی ثقافت پر منفی اثرات کے علاوہ کمزور طبقوں کا برباد ہونا ہے اور سرمایے کا عادلانہ تقسیم ممکن نہیں رہتا۔/

متعلق خبر
نام:
ایمیل:
* رایے:
captcha