یوسف؛ قرآن کی خوبصورت ترین داستان کا اہم کریکٹر

IQNA

قرآنی شخصیات/ 19

یوسف؛ قرآن کی خوبصورت ترین داستان کا اہم کریکٹر

7:14 - December 06, 2022
خبر کا کوڈ: 3513295
یوسف خوبصورت چہرے کا مالک حکیم انسان تھا جو تعیبر خواب کے ماہر تھا جس نے بصیرت سے مصر میں قحط کو کنٹرول کیا۔

ایکنا نیوز- حضرت یوسُف بنی‌ا‌سرائیل کے انبیاء میں سے ہے جو حضرت یعقوبِ نبی کے فرزند ہے اور انکی والدہ ماجدہ راحیل خاتون تھی انکے گیارہ بھائی تھے جس میں بنیامین انکا سگا بھائی تھا۔

قرآن کے مطابق یوسف خدا کے پاک اور مخلص بندوں میں شمار ہوتا ہے اور یوسف کا نام قرآن میں ستائیس بار آیا ہے اور قرآن کریم کا بارہواں سورہ اس کے نام سے ہے۔

سورہ یوسف میں انکی زندگی کا قصہ موجود ہے جس کو قرآن سے احسن القصص یا بہترین قصہ کہا ہے اور اس میں انکی جوانی ، خوبصورتی، عزیز مصر کو فروخت، زلیخا، جیل جانا، اور آخر میں بھائیوں اور والد سے ملنے اور حکومت کرنے کی داستان تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔

یوسف کہ جسمیں نبوت کی نشانی شروع سے موجود تھی ان پر یعقوب نبی کی خاص نظر اور توجہ تھی اور اس بنیاد پر انکے دیگر بھائی ان سے حسد کرتے تھے۔

 

انکی زندگی کا اہم موڑ انکا خواب ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج انکا احترام کرتے ہیں یعقوب جو تعبیر خواب کا ماہر تھا انہوں ن یوسف سے کہا کہ وہ اپنا خواب کسی کو نہ بتائے کیونکہ یہ خؤاب انکے نبی ہونے کی پیشنگوئی کررہا تھا۔

تاہم اس کے باوجود انکے بھائیوں کی حسادت میں اضافہ ہوتا گیا اور یہانتک کہ انہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈال دیا اور یعقوب سے کہا کہ انکو بھیڑیا کھا گیا، تاہم مسافروں کا ایک کارواں انکو کنویں سے نکالتا ہے اور مصر لیجا کر فروخت کرتا ہے جہاں وہ والی مصر کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے، بادشاہ مصر کی بیوی یوسف کا دلدادہ بن جاتی ہے اور کوشش کے باوجود جب یوسف انکی خواہش پوری نہیں کرتا تو الزام لگاتی ہے کہ اس نے خیانت کی ہے جس پر انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یوسف سالوں کے بعد اپنی بے گناہی ثابت کرتا ہے اور آزاد ہوجاتا ہے اور پھر تعبیر خواب کے باعث وہ بادشاہ مصر کو مشورہ دیتا ہے جس کی وجہ سے مصر خطرناک قحط سے محفوظ رہتا ہے اور سات سال کا سخت عرصہ مشکل دور سے بچ جاتا ہے۔

یوسف کی وفات کے بعد ہر گروپ چاہتا تھا کہ انکو اپنے علاقے میں دفن کرے لہذا جھگڑے سے بچنے کے لیے انکو موجود مصر میں ایک صندوق میں ڈال کر نیل کے دریا میں دفنایا جاتا ہے اور سالوں کے بعد حضرت موسی نے انکے جنازے کو نکال کر فلسطین میں دفنایا۔/

نام:
ایمیل:
* رایے:
captcha