IQNA

قرآن کیا کہتا ہے / 3
8:18 - May 24, 2022
خبر کا کوڈ: 3511921
زندگی میں مختلف مشکلات اور رنج و مصائب انسان کے دامن گیر ہوتے ہیں تاہم کیسے مثبت نگاہ سے ان رنج و الم پر قابو پاسکتے ہیں؟

ایکنا نیوز- «... وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (١٥٥) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ؛ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجیے کہ جب انکو مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: ہم خدا سے ہیں اور ان ہی کی طرف لوٹ جائیں گے» (بقره، 156).

قرآن کی اس آیت کو آیت استراجاع کہا جاتا ہے جو یہ درس دیتی ہے کہ نعمتوں کے چھین جانے سے ناراض نہ ہونا کیونکہ ان سب کا تعلق ہم سے ہیں ایک دن نعمت ملتی ہے اور ایک دن مصلحت دیکھتے ہوئے ہم سے نعمت واپس لی جاتی ہے اور دونوں امر میں مصلحت پوشیدہ ہے۔

 

ہم خدا سے ہیں اور لوٹ کر جانا ہے ایک ایسی حقیقت ہے جو بتاتی ہے کہ دنیا دائمی جگہ نہیں اور نعمت چھین لینے یا کم ہونے کا وقت جلد گزرنے والا ہے اور یہ سب ہمیں امتحان کرنے کا زریعہ ہے اور اس نکتے کو سمجھنے سے انسان میں صبر و استقامت آجاتی ہے۔

 

علامه طباطبایی  تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں: جب انسان اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ دنیا کا مالک رب العزت ہے جو صاحب اختیار ہے تو کسی مشکل سے گبھراتا نہیں کیونکہ وہ خود کو مالک نہیں سمجھتا کہ جو نعمت حاصل کرنے یا چھین جانے پر خوش یا ناراض ہوجائے۔

 

محسن قرائتی  تفسیر نور میں فرماتے ہیں: صابر لوگ حیران و سرگردان ہونے کی بجایے خدا کی پناہ لیتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں دنیا ایک آزمائش کا میدان ہے جہاں ہمیں رشد و نمو کرنا ہے، دنیا رہنے کی جگہ نہیں اور دنیا کی سختیاں خدا کی محبت کی دلیل نہیں۔/

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: