IQNA

قرآن کیا کہتا ہے / 16

دو دلیل کہ خدا کی اولاد نہیں

17:02 - July 05, 2022
خبر کا کوڈ: 3512236
قرآن میں دو دلیل موجود ہیں جو خدا کی اولاد کی نفی کرتی ہیں اور یہ سورہ بقرہ کی آیت 117 میں موجود ہیں۔

ایکنا نیوز- خدا کی قدرت اور اس قدرت سے کام لینے کا موضوع ہمیشہ زیر بحث رہا ہے اور اس بارے درست تصور تمام عیقدے میں موثر ہے۔

کائنات اور انسان کی خلقت ان مسایل میں شامل ہے جو اسی موضؤع میں پوشیدہ ہے، اس بارے قرآن میں آیت موجود ہے جس کے بارے میں مفسرین نے کافی مباحثے کیے ہیں۔

«بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ و َإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ؛ [وہ] زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے [ہے] اور جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے کہتا ہے[وجود میں] آجا [فورا موجود] ہوتا ہے» (بقره، 117)

یہ بات اس سے پہلی والی آیت میں کے مطابق ان لوگوں کے جواب میں ہے جو یہودیت اور عیسائیت میں یہ تصور کرتے تھے کہ خدا کا بیٹا ہے۔ ان میں سے بعض کا کہنا تھا «عزیر خدا کا بیٹا ہے» اور بعض کہتے تھے کہ «عیسی مسیح خدا کا بیٹا ہے». یہ جملہ خدا کی روئے زمین پر حاکمیت کو بیان کرتا ہے۔

علامه طباطبایی اس آیت بارے دو دلائل پیش کرتے ہیں جو خدا کی اولاد ہونے کو رد کرتی ہیں۔ پہلی دلیل یہ کہ ایک موجود اپنے کچھ قدرتی حصے جدا کرے اور پر تدریجی تربیت کے ساتھ اس کو اپنی طرح بنالے جبکہ خدا کا جسم نہیں بکہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہےمکمل اس سے وابستہ ہیں پس کیسے ممکن ہے کہ موجود اس کی اولاد بنے اور اسکی خصوصیات کی حامل ہو؟

دوسری دلیل یہ کہ اس آیت کے مطابق خدا نے زمین و آسمانوں کو خلق کیا ہے اور سب چیزوں کو بغیر نمونے کے خلق کیا پس اس کا عمل دیگر لوگوں کی مانند تقلیدی یا کاپی کرنا نہیں اور اس کو اسباب کی ضرورت نہیں، بکہ جو ہی کہتا ہے«ہوجا» ہو چیز بلافاصلہ ہوجاتی ہے پس اس لیے کیسے اولاد کا تصور ممکن ہےجب کہ اولاد کے لیے تربیت اور تدریج عمل کی ضرورت ہے۔

 

ایک اور شیعہ تفسیر میں لکھا ہے:‌ «كن فيكون» اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ارادہ کرتا ہے اور وہ چیز ہوجاتی ہے اور خدا کا ارادہ حکمت اور مصلحت کی بنا پر پے اور اشیا کا وجود میں آنا خدا کے ارادے کے علاوہ کسی چیز کی محتاج نہیں۔

 

تفسیر میں دو نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے:

1- خدا کی خلقت تخیلق اور جدت ہے. «بَدِيعُ»

2- خدواند بزرگ ایک لمحے میں سب کچھ وجود میں لاسکتا ہے؛ «كُنْ فَيَكُونُ»، اگرچہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ قدرتی مراحل طے ہو۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* :