IQNA

قرآن کیا کہتا ہے / 1
13:53 - May 18, 2022
خبر کا کوڈ: 3511885
شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہوں کہ ایسی حالت میں مبتلا ہو جب خدا کے سوا کوئی اور مدد نہں کرسکتا اور اس حال میں ایک ایسی ہستی کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اسکی مدد کرسکتی ہے۔

ایکنا نیوز- قرآن اپنی تعلیمات کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ معمولا اس کا تجربہ اکثر نے کیا ہوتا ہے مثلا کے طور پر ایسا انسان کو خود کا منکر ہوتا ہے اس کے لیے بھی خدا اتمام حجت کے لیے اس حالت میں مبتلا کرتا ہے جس اس سوچ بدل جاتی ہے

آیات 22 و 23 سوره یونس میں اس بارے میں کہا گیا ہے :

«هوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهمْ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِها جَاءَتْها رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهمْ أُحِيطَ بِهمْ دَعَوُا اللَّه مُخْلِصِينَ لَه الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هذِه لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ * فَلَمَّا أَنْجَاهمْ إِذَا همْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ يَا أَيُّها النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ: وہ ایسا ہے جو تمھیں خشکی و سمندر میں لے جاتا ہے وہ کشتیوں میں خوشی خوشی گزارتا ہے کہ [ناگہانی طور پر] تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے  ایسا طوفان دیکھتا ہے کہ یقین ہوتا ہے کہ بچنا مشکل ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر ہماری مدد کی تو ہم شکر گزار ہوں گے * لیکن جب ہمیں اسے نجات دیتے ہیں دوباہ زمین پر ناحق سرکش بنتا ہےاور ایسا صرف تمھارے نقصان میں ہے۔ تم سب کو ہماری طرف لوٹنا ہے جو تم انجام دیتے ہو ہم اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کریں گے۔» (یونس، 22-23).

حجت‌الاسلام قرائتی  «تفسیر نور» میں اس بارے میں فرماتے ہیں:

  1. نیچر پر حاکم قوانین خدا کی مخلوق ہے «هوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ: وہ ایسا ہے ... جو تمھیں حرکت میں لاتا ہے».
  2. انسان کے کاموں کو بھی خدا کے کام سے نسبت دی گیی ہے کیونکہ اصل قدرت وہ ہے: «هوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ: وہ تمھیں حرکت میں لاتا ہے».
  3. انسان جسقدر ترقی کرلے قدرتی آفات سے بچاو ممکن نہیں. «جاءَتْها رِيحٌ عاصِفٌ: ناگہان ان پر تیز ہوا چلتی ہے».
  4. آرام پسند اس گھمنڈ میں نہ پڑیں کہ وہ ہمیشہ خوشی اور آرام سے رہیں گے. «فَرِحُوا بِها... أُحِيطَ بِهمْ: وہ خوش ہوتے ہیں... اچانک دیکھتا ہے کہ گرفتار ہوا ہے».
  5. قدرتی آفات انسان کے غرور کو توڑ دیتی ہیں «دَعَوُا اللَّه: خدا کو پکارتے ہیں».
  6. خطرے کے وقت انسان فطرتا ایک نجات دہندے کی جانب متوجہ ہوتا ہے«دَعَوُا اللَّه مُخْلِصِينَ: خدا کو خلوص سے پکارتے ہیں».
  7. ايمان و اخلاص کو دایمی ہونے چاہیے موسمی نہیں «أُحِيطَ بِهمْ دَعَوُا اللَّه مُخْلِصِينَ: جب محاصرے میں خود کو دیکھتا ہے تو فریاد کرتے ہیں».
  8. انسان مشکل میں وعدہ کرتے ہیں مگر نجات کے بعد فراموش کرتا ہے «لَئِنْ أَنْجَيْتَنا: اگر ہمیں بخش دو».
  9. ناسپاسى اور كفران نعمت‌ عذاب کی وجہ بنتے ہیں «لَئِنْ أَنْجَيْتَنا مِنْ هذِه لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ: اگر ہمیں نجات دو تو یقینا شکرگزار ہوں گے».

* «تفسیر نور» بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب ہے جو ایرانی محقق اور مفسر قرآن محسن قرائتی، نے آسان الفاظ میں تیار کیا ہے۔/

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: