IQNA

قرآنی سورے/ 13

گرج چمک؛ آسمانی تسبیح

7:43 - June 22, 2022
خبر کا کوڈ: 3512121
آسمان پر کڑکتی اور گونجتی بجلی خدا کی نشانیوں میں سے ہے اور سورہ رعد کی آیت 13 کے مطابق یہ گونج در اصل خدا کی شکرگزاری اور تسبیح ہے۔

ایکنا نیوز- سوره رعد قرآن کریم کا تیرہواں سورہ ہے اور 43 آیات کے ساتھ تیرہویں پارے میں ہے، اس سورہ کے مکی یا مدنی ہونے کے حوالے سے علما میں اختلافات ہیں کچھ کہتے ہیں کہ متن سے مکی لگتا ہے اور کچھ ترتیب نزول کی وجہ سے اس کو مدنی کہتے ہیں۔ ترتیب نزول کے حوالے سے یہ چیھانوے نمبر پر رسول گرامی (ص) پر اترا ہے۔

 

 اس سورے میں رعد یعنی گرج چمک کی آواز ہے جس کو خدا کی تسبیح کہا گیا ہے۔ اس سورے کی آیت تیرہ میں کہا گیا ہے: «وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ؛ اور رعد (گرج چمک اور تمام غیب و شهود) اور تمام فرشتے خدا کے خوف (قهر) سے انکی تسبیح اور ستایش میں مصروف ہیں». اس آیت کی مختلف تفسریں ہیں؛ کچھ کا کہنا ہے کہ گرچ چمک خدا کی عظمت و بزرگی کی نشانی ہے جو یا تسبیح کررہا ہے یا تسبیح کی دعوت دیتا ہے۔ بعض دیگر تفسیروں میں کہا گیا ہے کہ جو گرج چمک کی آواز سنے اس چاہیے خدا کی تسبیح کریں، بعض مخصوص دعاوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

 

مذکورہ سورہ توحیداور خدا کی قدرت، قرآن و نبوت کی حقانیت، قیامت اور جنت و جہنم کی توصیف کی گیی ہے۔اس سورہ میں توحید، قیامت اور وحی کے بارے میں گفتگو اور بحث ہے جس کو انسان اور دنیا آشکار کرتی ہے اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ گذشتہ اقوام اور خدا کی سنت پر غور کریں۔

 

سوره رعد اس لوگوں کے جواب میں اترا ہے جو قرآن کو معجزہ ماننے سے انکار کرتے اور رسول گرامی(ص) اسلام سے معجزہ مانگتے۔ اللہ تعالی تاکید کرتا ہے کہ قرآن حق پر اترا ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں۔

 

قرآن کریم کی ایک اہم ترین تاکید انسانوں کے لیے اس سورہ میں آئی ہے جہاں آیت 11 میں کہا جاتا ہے

: «...إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ...: ‏خدا کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدلے۔».

متعلق خبر
نام:
ایمیل:
* رایے:
* :