صفحه نخست

فعالیت قرآنی

سیاست و اقتصاد

بین الملل

معارف

اجتماعی

فرهنگی

شعب استانی

چندرسانه ای

عکس

آذربایجان شرقی

آذربایجان غربی

اردبیل

اصفهان

البرز

ایلام

خراسان جنوبی

بوشهر

چهارمحال و بختیاری

خراسان رضوی

خراسان شمالی

سمنان

خوزستان

زنجان

سیستان و بلوچستان

فارس

قزوین

قم

کردستان

کرمان

کرمانشاه

کهگیلویه و بویر احمد

گلستان

گیلان

لرستان

مازندران

مرکزی

هرمزگان

همدان

یزد

بازار

صفحات داخلی

کد خبر: ۱۳۰۳۸۳۳
تاریخ انتشار : ۲۳ مهر ۱۳۹۲ - ۱۴:۲۷

موسم حج كی آمد كو امت اسلامیہ كی عظيم عيد سمجھنا چاہئے۔ ہر سال یہ گراں قدر ايام دنيا بھر كے مسلمانوں كو جو سنہری موقعہ فراہم كرتے ہیں وہ ايسا كرشماتی كيميا ہے كہ اگر اس كی قدر و قيمت كو سمجھ ليا جائے اور اس سے كما حقہ استفادہ كيا جائے تو عالم اسلام كے بہت سے مسائل اور كمزوريوں كا علاج ہو سكتا ہے۔



حج فيضان الہی كا چشمہ خروشاں ہے۔ آپ خوش قسمت حاجيوں میں ہر ايك كو اس وقت یہ خوش قسمتی حاصل ہوئی ہے كہ نورانيت و روحانيت سے معمور ان مناسك و اعمال كے دوران دل و جان كی طہارت كركے اس رحمت و عزت و قدرت كے سرچشمے سے اپنی پوری زندگی كے لئے سرمایہ حاصل كریں۔ خدائے رحيم كے سامنے خشوع اور خود سپردگی، مسلمانوں كے دوش پر ڈالے جانے والے فرائض كی پابندی، دين و دنيا كے امور میں نشاط و عمل و اقدام، بھائيوں كے سلسلے میں رحمدلی و درگزر، سخت حوادث كا سامنا ہونے پر جرائت و خود اعتمادی، ہر جگہ ہر شئے كے سلسلے میں نصرت خداوندی كی اميد، مختصر یہ كہ تعليم و تربيت كے اس ملكوتی ميدان میں مسلمان كہلانے كے لايق انسان كی تعمير و نگارش كو آپ اپنے لئے بھی مہيا كر سكتے ہیں اوراپنے وجود كو ان زيوروں سے آراستہ اور ان ذخيروں سے مالامال كركے اپنے وطن اور اپنی قوم كے لئے اور سرانجام امت اسلامیہ كے لئے بطور سوغات لے جا سكتے ہیں۔


آج امت اسلامیہ كو سب سے بڑھ كر ايسے انسانوں كی ضرورت ہے جو ايمان و پاكيزگی و اخلاص كے ساتھ ساتھ فكر و عمل اور روحانی و معنوی خود سازی كے ساتھ ساتھ كينہ توز دشمنوں كے مقابل جذبہ استقامت سے آراستہ ہو۔ یہ مسلمانوں كے اس عظيم معاشرے كی ان مصيبتوں سے رہائی كا واحد راستہ ہے جن میں وہ آشكارا طور پر دشمنوں كے ہاتھوں يا قديم ادوار سے قوت ارادی، ايمان اور بصيرت كی كمزوری كے نتيجے میں گرفتار ہے۔


بيشك موجودہ دور مسلمانوں كی بيداری اور تشخص كی بازيابی كا دور ہے۔ اس حقيقت كو ان مسائل كے ذريعے بھی واضح طور پر سمجھا جا سكتا ہے جن سے مسلمان ممالك آج دوچار ہیں۔ ايسے ہی حالات میں ايمان و توكل علی اللہ، بصيرت اور تدبير پر استوار عزم و ارادہ مسلم اقوام كو ان مسائل سے كاميابی اور سرخروئی كے ساتھ نكال سكتا ہے اور ان كے مستقبل كو عزت و وقار سے آراستہ كر سكتا ہے۔ مد مقابل محاذ جو كسی صورت میں بھی مسلمانوں كی بيداری كو برداشت كرنے پر تيار نہیں ہے، اپنی پوری توانائی كے ساتھ ميدان میں اتر پڑا ہے اور مسلمانوں كو كچلنے، پسپا كرنے اور آپس میں الجھا دينے كے لئے تمام نفسياتی، عسكری، اقتصادی، تشہيراتی اور سيكورٹی كے شعبے سے مربوط حربوں كو استعمال كر رہا ہے۔پاكستاناور افغانستان سے ليكر شام، عراق، فلسطين اور خليج فارس كے ملكوں تك مغربی ايشيا كی تمام رياستوں، نيز شمالی افريقا میں ليبيا، مصر اور تيونس سے ليكر سوڈان اور بعض ديگر ممالك تك تمام ملكوں پر ايك نگاہ ڈالنے سے بہت سے حقائق واضح ہو جاتے ہیں۔ خانہ جنگی، اندھا دينی و مسلكی تعصب، سياسی عدم استحكام، بے رحمانہ دہشت گردی كی ترويج، ايسے گروہوں اور حلقوں كا ظہور جو تاريخ كی وحشی قوموں كے انداز میں انسانوں كے سينے چاك كرتے ہیں، ان كا دل نكال كر دانتوں سے بھنھوڑتے ہیں، وہ مسلح عناصر جو بچوں اور خواتين كو قتل كرتے ہیں، مردوں كے سر قلم كرتے ہیں اور ان كی ناموس كی آبروريزی كرتے ہیں، ستم بالائے ستم یہ ہے كہ بعض مواقع پر یہ شرمناك اور نفرت انگيز جرائم دين كے نام پر اور پرچم دين كے تلے انجام ديتے ہیں، یہ سب كچھ اغيار كی خفیہ ايجنسيوں اور علاقے میں ان كے ہمنوا حكومتی عناصر كی شيطانی اور سامراجی سازشوں كا نتيجہ ہے جو ملكوں كے اندر موافق مقامات پر وقوع پذير ہونے كا امكان حاصل كر ليتی ہیں اور قوموں كا مقدر تاريك اور ان كی زندگی كو تلخ كر ديتی ہیں۔ يقينا ان حالات میں یہ توقع نہیں ركھی جا سكتی كہ مسلمان ممالك روحانی و مادی خلا كو پر كریں گے اور امن و سلامتی، رفاہ آسائش، علمی ترقی اور عالمی ساكھ كو جو بيداری اور تشخص كی بازيابی كا ثمرہ ہے حاصل كر سكیں گے۔ یہ پرمحن حالات اسلامی بيداری كو ناكام اور عالم اسلام میں ذہنی اور نفسياتی سطح پر پيدا ہونے والی آمادگی كو ضائع كر سكتے ہیں اور ايك بار پھر برسوں كے لئے مسلم اقوام كو جمود و تنہائی اور انحطاط كی جانب دھكيل كر ان كے كليدی مسائل جيسے امريكا اور صیہونزم كی مداخلتوں اور جارحيتوں سے فلسطين اور مسلم اقوام كی نجات كے موضوع كو فراموش كروا سكتے ہیں۔


اس كے بنيادی اور اساسی حل كو دو كليدی جملوں میں بيان كيا جا سكتا ہے اور یہ دونوں ہی حج كے نماياں ترين درس ہیں:۔


اول: پرچم توحيد كے نيچے تمام مسلمانوں كا اتحاد اور اخوت


دوم: دشمن كی شناخت اور اس كی چالوں اور سازشوں كا مقابلہ


اخوت و ہمدلی كے جذبے كی تقويت حج كا عظيم درس ہے۔ یہاں دوسروں كے ساتھ بحث و تكرار اور تلخ كلامی بھی ممنوع ہے۔ یہاں يكساں پوشاك، يكساں اعمال، يكساں حركات و سكنات اور محبت آميز برتاؤ ان تمام لوگوں كی برادری و مساوات كے معنی میں ہے جو اس مركز توحيد پر عقيدہ ركھتے ہیں اور قلبی طور پر اس سے وابستہ ہیں۔ یہ ہر اس فكر و عقيدے اور پيغام پر اسلام كا دو ٹوك جواب ہے جس میں مسلمانوں اور كعبہ و توحيد پر عقيدہ ركھنے والوں كے كسی گروہ كو دائرہ اسلام سے خارج قرار ديا جاتا ہے۔ تكفيری عناصر جو آج عيار صیہونيوں اور ان كے مغربی حاميوں كی سياست كا كھلونا بن كر ہولناك جرائم كا ارتكاب كر رہے ہیں اور مسلمانوں اور بے گناہوں كا خون بہا رہے ہیں اور دينداری كے دعوے كرنے والے اور علماء كا لباس پہننے والے وہ افراد جو شيعہ و سنی تنازعے يا ديگر اختلافات كی آگ بھڑكا رہے ہیں، يا بات جان لیں كہ خود مناسك حج ان كے دعوے پر خط بطلان كھينچتے ہیں۔


كتنی حيرت كی بات ہے! وہ لوگ جو برائت از مشركين كے عمل كو جو پيغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كی سنت سے وابستہ عمل ہے ممنوع بحث و تكرار قرار ديتے ہیں، خود مسلمانوں كے درميان خونريز تنازعات پيدا كرنے میں سب سے موثر عناصر بنے ہوئے ہیں۔


بہت سے علمائے اسلام اور امت اسلامیہ كا درد ركھنے والے افراد كی طرح میں بھی ايك بار پھر یہ اعلان كرتا ہوں كہ ہر وہ قول و فعل جو مسلمانوں كے درميان اختلافات كے شعلہ ور ہو جانے كا باعث بنے، نيز مسلمانوں كے كسی بھی فرقے كے مقدسات كی توہين يا كسی بھی اسلامی مسلك كو كافر قرار دينا كفر و شرك كے محاذ كی خدمت، اسلام سے خيانت اور شرعا حرام ہے۔


دشمن اور اس كی روش كی شناخت دوسرا اہم نكتہ ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے كہ كينہ پرور دشمن كے وجود كو كبھی بھی فراموش نہیں كرنا چاہئے اور حج میں چند بار انجام پانے والا رمی جمرات كا عمل اس دائمی توجہ كا علامتی عمل ہے۔ دوسرے یہ كہ اصلی دشمن كی شناخت میں جو آج عالمی استكبار اور جرائم پيشہ صیہونی نیٹ ورك كی صورت میں ہمارے سامنے ہے، كبھی غلطی نہیں كرنا چاہئے۔ تيسری بات یہ ہے كہ اس كٹر دشمن كی چالوں كو جو مسلمانوں كے درميان تفرقہ انگيزی، سياسی و اخلاقی بدعنوانی كی ترويج، دانشوروں كو رجھانے اور ڈرانے، قوموں پر اقتصادی دباؤ اور اسلامی عقائد كے سلسلے میں شكوك و شبہات پيدا كرنے سے عبارت ہیں بخوبی پہچاننا چاہئے اور اسی طريقے سے دانستہ يا غير دانستہ طور پر اس كے مہروں میں تبديل ہو جانے والے عناصر كی بھی نشاندہی كر لينا چاہئے۔


استكباری حكومتیں اور ان میں سر فہرست امريكا وسيع و پيشرفتہ ذرائع ابلاغ كے ذريعے اپنے اصلی چہرے كو چھپا ليتے ہیں اور انسانی حقوق اور جمہوريت كی پاسبانی كے دعوؤں سے قوموں كی رائے عامہ كے سامنے فريب دينے والا برتاؤ كرتے ہیں۔ وہ ايسے عالم میں اقوام كے حقوق كا دم بھرتے ہیں كہ جب مسلم اقوام ہر دن اپنے جسم و جان سے ان كے فتنوں كی آگ كی تمازت كا پہلے سے زيادہ احساس كرتی ہیں۔ مظلوم فلسطينی قوم پر ايك نظر جو دسيوں سال سے روزانہ صیہونی حكومت اور اس كے حاميوں كے جرائم كے زخم كھا رہی ہے۔ يا افغانستان،پاكستانو عراق جيسے ممالك پر ايك نظر جہاں استكبار اور اس كے علاقائی ہمنواؤں كی پاليسيوں كی پيدا كردہ دہشت گردی سے زندگی تلخ ہوكر رہ گئی ہے۔ يا شام پر ايك نظر جو صیہونيت مخالف مزاحمتی تحريك كی پشت پناہی كے جرم میں بين الاقوامی تسلط پسندوں اور ان كے علاقائی خدمت گزاروں كے كينہ پرستانہ حملوں كی آماجگاہ بنا ہے اور خونريز خانہ جنگی میں گرفتار ہے، يا بحرين يا ميانمار پر ايك نظر جہاں الگ الگ انداز سے مصيبتوں میں گرفتار بے اعتنائی كا شكار ہیں اور ان كے دشمنوں كی حمايت كی جا رہی ہے۔ يا يا ديگر اقوام پر ايك نظر جنہیں امريكا اور اس كے اتحاديوں كی جانب سے پے در پے فوجی حملوں، يا اقتصادی پابنديوں، يا سيكورٹی كے شعبے سے متعلق تخريبی كارروائيوں كے خطرات لاحق ہیں، تسلط پسندانہ نظام كے عمائدين كے اصلی چہرے سے سب كو روشناس كرا سكتی ہے۔


عالم اسلام میں ہر جگہ سياسی، ثقافتی اور دينی شخصيات كو چاہئے كہ ان حقائق كے افشاء كی ذمہ داری كا احساس كریں۔ یہ ہم سب كا دينی اور اخلاقی فريضہ ہے ۔شمالی افريقا كے ممالك جو بد قسمتی سے ان دنوں گہرے داخلی اختلافات كی لپیٹ میں ہیں، دوسروں سے زيادہ اپنی عظيم ذمہ داری يعنی دشمن، اس كی روش اور اس كے حربوں كی شناخت پر توجہ دیں۔ قومی جماعتوں اور دھڑوں كے درميان اختلافات كا جاری رہنا اور ان ملكوں میں خانہ جنگی كے انديشے غفلت ايسا بڑا خطرہ ہے كہ اس سے امت اسلامیہ كو پہنچنے والے نقصانات كا جلدی تدارك نہیں ہو پائے گا۔


البتہ ہم كو اس بات میں كوئی شك و شبہ نہیں ہے كہ اس علاقے كی انقلابی قومیں جہاں اسلامی بيداری مجسم ہو چكی ہے، اذن پروردگار سے یہ موقعہ نہیں دیں گی كہ وقت كی سوئی برعكس سمت میں گھومے اور بدعنوان، پٹھو اور ڈكٹیٹر حكمرانوں كا دور واپس آئے، ليكن فتنہ انگيزی اور تباہ كن مداخلتوں میں استكباری طاقتوں كی كردار كی جانب سے غفلت ان كی مہم كو دشوار بنا دے گی اور عزت و سلامتی اور رفاہ و آسائش كے دور كو برسوں پيچھے دھكيل دے گی۔ ہم قوموں كی توانائی اور اس طاقت پر جو خدائے حكيم نے عوام الناس كے عزم و ايمان اور بصيرت میں قرار دی ہے، دل كی گہرائيوں سے يقين ركھتے ہیں اور اسے ہم نے تين عشرے سے زيادہ كے عرصے كے دوران اسلامی جمہوریہ كے اندر اپنی آنكھوں سے ديكھا اور اپنے پورے وجود سے اس كا تجربہ كيا ہے۔ ہمارا عزم تمام مسلم اقوام كو اس سربلند اور كبھی نہ تھكنے والے ملك میں آباد ان كے بھائيوں كے تجربے سے استفادہ كرنے كی دعوت ديتا ہے۔


اللہ تعالی سے مسلمانوں كی بھلائی اور دشمنوں كے مكر و حيلے سے حفاظت كا طلبگار ہوں اور بيت اللہ كے آپ تمام حاجيوں كے لئے حج مقبول، جسم و جان كی سلامتی اور روحانيت سے سرشار خزانے كی دعا كرتا ہوں۔


والسلام عليكم و رحمة الله


سیّد علی خامنه‌ای